دینی و عصری تعلیم کے فروغ کا مشن لیے بہت سے مخلص ادارے ہمارے معاشرے میں موجود ہیں، تو پھر ایک نئے ادارے کی تشکیل کا کیا مقصد؟ کیا یہ پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش ہے؟ ہرگز نہیں۔دینی حوالے سے ہمارے ایسے ادارے مدارس اور یونیورسٹیز ہیں۔ مگراپنے اس مشن اور وژن کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوں میں اسلامیات کی تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ پہلو سامنے آتے ہیں۔

  • دینی مدارس کامقصد بالعموم یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص مکتب فکر کے داعین اور مبلغین کو تیار کیا جائے جو مکمل طور پر دین کی کسی ایک تعبیر کا مطالعہ کرنے کے بعد اسی کی نشر و اشاعت میں اپنی زندگیاں بسر کردیں۔اس کے نتیجے میں تنگ نظری ، تعصب اور بالآخر تشدد کے سوا کچھ اور پیدا نہیں ہوتا ۔علوم دینیہ کا ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں وسعت نظری پیدا ہو اور تعصب کا خاتمہ کیا جا سکے اور مخصوص فرقوں کےمبلغین کی بجائے اسلام کے مبلغین تیار کیے جائیں۔
  • علوم دینیہ کی تدریس کے لئے جو نصاب تشکیل دیا گیا ہے وہاپنے دور کی ضروریات اور مخصوص حالات کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ اس زمانے میں جن دنیاوی علوم کی ضرورت موجود تھی، انہیں شامل کرکے ایک نصاب تشکیل دیا گیا۔ معاشرت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان میں سے بہت سے علوم اب غیر متعلق (Obsolete) ہوچکے ہیں ۔ اس کے برعکس دور جدید میں بہت سے ایسے علوم ارتقاء پذیر ہوچکے ہیں جو کہ دعوت دین سے براہ راست متعلق ہیں۔ غیر متعلق علوم کا نصاب سے انخلاء اور متعلق علوم کی نصاب میں شمولیت دور جدید کے دینی تعلیم کے نصاب کے لئے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
  • قدیم طریقہ تعلیم عام طور پر یہ رہا ہے کہ ایک استاذ کتاب کھول کر بیٹھ جائے اور شاگرد اس کے گرد حلقہ بنالیں۔ استاذ یا کوئی لائق شاگرد کتاب کو پڑھتا جائے اور استاذ حسب ضرورت اسے روک کر کتاب کی تشریح کرتا چلا جائے۔ یہ طریق کار موجودہ دور میں متروک ہو چکا ہے اور جب کسی جدید تعلیم یافتہ شخص کواس طریق کار کے ذریعے تعلیم پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ اس سے سخت وحشت محسوس کرتا ہے۔ جدید نظام تعلیم میں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں طالب علموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی پیدا کی جاسکے۔
  • مروجہ طریقہ تعلیم میں جدید ترین آڈیو ویژول ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاتا جبکہ جدید نظام تعلیم میں اس کی مدد سےمشکل ترین تصورات کو بھی نہایت آسانی کے ساتھ ایک اوسط درجے کے طالب علم کے ذہن میں اتارا جاسکتا ہے۔
  • جدید یونیورسٹیوں میں علوم اسلامیہ میں گریجویشن، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر جو کورسز پڑھائے جارہے ہیں، ان میں اوپر بیان کردہ مسائل نہیں ہیں لیکن ان میں صرف وہ طالب علم ہی شریک ہوسکتے ہیں، جو خود کو فل ٹائم اسی مقصد کے لیے وقف کردیں۔ ایسے لوگ جو ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں، وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے ہیں۔
  • جدید یونیورسٹیوں کے علوم اسلامیہ کے نظام تعلیم میں یہ مسئلہ ہے کہ جو طلباء ایم اے اسلامیات یا پی ایچ ڈی کرتے ہیں، ان کے اندر بالعموم خدمت دین کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا ہے۔ وہ بس ’’ایم اے‘‘ یا ’’پی ایچ ڈی‘‘ کہلانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
  • علوم دینیہ کے مروجہ نظام تعلیم میں طویل وقت درکار ہوتا ہے جو کہ موجودہ دور میں نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ افراد دینی تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ علوم دینیہ کے نصاب کو اتنا لچک دار(Flexible) ہونا چاہیے کہ ہر شخص اپنے دستیاب اوقات اور ذہنی استعداد کے مطابق علوم دینیہ کا مطالعہ کر سکے۔
  • مروجہ نظام تعلیم کا ایک مسئلہ اس کا جمود ہے۔ اس طریق تعلیم میں عام طور پر طالب علموں کے انفرادی مسائل، ہر طالب علم کی مخصوص ذہنی سطح اور مخصوص حالات کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
  • جدید تعلیم یافتہ طبقے میں دین کو اعلی علمی سطح پر پڑھنے کی ایک بہت بڑی ڈیمانڈ موجود ہے۔ بہت سے دینی حلقے ان کے لیے کچھ نہ کچھ کورسز کا اہتمام کر رہے ہیں مگر یہ سب کے سب ابتدائی یا بہت ہوا تو متوسط درجے کے ہیں۔ اگر بالفرض ہم دینی تعلیم کو دس لیولز میں تقسیم کریں تو زیادہ سے زیادہ لیول 3 تک کے کورسز ایک عام جدید تعلیم یافتہ شخص کے لیے موجود ہیں۔ اس سے ایڈوانسڈ سطح پر جانے کی کسی نے کوشش نہیں کی۔

Register

مینو

ہمارے شراکت دار